میرے والد کا فرقہ صوفیہ نودبخشیہ تھا۔ میرے والد صاحب نے شیخ سکندر حسسین کے خلاف کورٹ میں کیس کیا تھا کہ سیرت معصومین کے نام سے جو کتاب شیخ سکندر نے لکھی ہے وہ غلط ہے۔
میرے والد کا کہنا تھا کے سیرت معصومین شیعہ مسلک کی کتاب چوداں ستارے کی ہو با ہو نقل ہے۔ انھیں شیخ سکندر اور شیعہ مسلک سے کوئی لینا دینا نہیں ہے لیکن وہ صوفیہ نوربخشیہ میں شیعہ عقائد ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں اس لیے انھیں شیخ سکندر پر کیس کرنا پڑا۔
شیخ سکندر شیعہ ایجنٹ ہے، اگر شیخ سکندر صوفیہ نوربخشیہ مسلک چھوڑ کر شیعہ ہو جاۓ اور سیرت معصومین نکالے تو انھیں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ لیکن اگر وہ صوفیہ نوربخشیہ عالم بن کر سیرت معصومین نکلتا ہے تو یہ نوربخشی کتاب مانی جاتی ہے اس لیے انھیں اسے روکنا ہو گا۔
آج کل شیخ سکندر سے صلح کی بات چل رہی ہے اگر تمام نوربخشی شیخ سکندر سے صلح کر لیں تب بھی میں اس سے صلح نہیں کروں گا۔
میرا اتنا ایمان تو نہیں ہے کہ میں اپنے والد کی ترحاں میں ہاتھ سے غلط کو روکوں لیکن اتنا تو ہے کے زبان سے اس کو غلط کہوں ۔ آخر مرنے کے بعد میں نے اپنے والد کو اپنا منہ تو دیکھانا ہے۔ میں یہ وضاحت اس لیے نہیں لکھ رہا کے میری نظر میں سکندر کی کوئی حیثیت ہے۔ میری نظر میں سکندر کی کوئی حیثیت نہیں ہے لیکن میری نظر میں اپنے والد صاحب کی حیثیت ہے اس لیے میں نے یہ وضاحت لکھی ہے ۔
Comments
Post a Comment