Good Vs Evil
امریکہ+ آرمی +سیاست دان + اسٹیبلشمنٹ بمقابلہ عمران خان
امریکہ کو میں Evil نہیں کہوں گا کیونکہ امریکہ کا اپنا مفاد ہے ۔ اور وہ اپنے ملک کے مفاد کے لئے کام کر رہا ہے ۔ آرمی ، اسٹیبلشمنٹ اور سیاست دان Evil ہیں کیونکہ وہ اپنے مفاد کی خاطر امریکہ کے لئے استعمال ہورہے ہیں اور اپنے ملک پاکستان کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔
عمران خان نہ ہی ریحام خان ہے ، نہ جمائمہ ، نہ بشریٰ بی بی ، نہ قاسم خان، نہ سلیمان خان ، نہ بزدار نہ عاظم سواتی ، نہ اسد عمر نہ شاہ محمود قریشی ، نہ جرنل عاصم منیر ، نہ جنرنل فیض حمید ، نہ جرنل باجوہ ، نہ علیم خان ، نہ جہانگیر ترین ، نہ عون چوہدری ، نہ شیخ رشید ، نہ نواز شریف ، نہ شاہباز شریف ، نہ مریم نواز ، نہ خواجہ آصف، نہ شاہد خاکہان عباسی، نہ آصف زرداری، نہ بلاول زرداری ، نہ آصفہ زرداری ، نہ شرجیل میمن نہ سعید غنی، نہ مولانا فضل الرحمن ، نہ فاروق ستار ، نہ حافظ نعیم، نہ سراج الحق، نہ الطاف حسین ، نہ عمران اسماعیل، نہ علی زیدی ، نہ فیصل واڈہ ، نہ نجیب ہارون، نہ قادری بھائی ، نہ آفتاب جہانگیر ، نہ شہزاد حیدر، نہ سبحان ساحل، نہ سہیل احمد، نہ علیم عادل شیخ، نہ فردوس شمیم، نہ چوہدری پرویز الٰہی ، نہ حامد میر، نہ اوریہ مقبول جان، نہ جاوید جوہدری، نہ زلفی بخاری ، نہ گوہر علی خان، نہ علی امین گنڈا پوری،
عمران خان صرف عمران خان ہے ۔
قیامت کے دن آپ سے آپ کے اعمال کے بارے میں سوال و جواب ہوگا۔ دوسروں کے اعمال کے بارے میں نہیں۔
اور آپ اپنے اعمال کے جواب دہ ہو، نہ کہ دوسروں کے۔
کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ عمران خان جھوٹا ہے یا عمران خان (Corrupt) ، بے ایمان ہے ۔ عمران خان کے مخالف عمران خان کے ساتھ جڑے لوگوں کو ہی برا کہتے ہیں۔ کیونکہ ہر ایک کو معلوم ہے کہ نہ ہی عمران خان جھوٹا ہے اور نہ ہی بے ایمان۔
میری رائے میں عمران خان نہ ہی جھوٹا ہے اور نہ ہی بے ایمان، اگر عمران خان خود بھی بولے کہ میں جھوٹا ور بے ایمان ہوں تب بھی میری رائے تبدیل نہیں ہوگی۔ اور میں اپنی رائے پر قائم رہوں گا ۔
کچھ لوگ کہتے ہیں کہ عمران خان کو 2018ء میں آرمی اور اسٹیبلشمنٹ نے لایا تھا۔ اگر 2018ء میں عمران خان کو آرمی اور اسٹیبلشمنٹ نے لایا تھا تو 2024ء میں آرمی اور اسٹیبلشمنٹ عمران خان کو تمام تر کوششوں کے باوجود کیوں نہیں روک سکے۔ شاید 2018ء میں آرمی نے عمران خان کی Support کی ہوگی۔ لیکن دونوں کے بیچ میں کوئی ڈیل نہیں ہوئی ہوگی۔ اگر میں الیکشن میں کھڑا ہوں اور کوئی سزا یافتہ Don میری حمایت کا اعلان کرتا ہے تو میں اسے روک تھوڑی سکتا ہوں کیونکہ ووٹ دینا اور کسی بھی امید وار کی حمایت کرنا اس کا قانونی حق ہے ۔ ہاں اگر میں اس سے معاہدہ کروں کہ الیکشن میں میری حمایت کرو جیتنے کے بعد میں تمہیں ، تمہارے غلط کام کرنے سے نہیں روکوں گا تو پھر یہ غلط ہے ۔
حقیقت میں :
نہ امریکہ پاکستان کا دوست ہے ۔
نہ چین پاکستان کا دوست ہے ۔
نہ ہندوستان پاکستان کا دشمن ہے ۔
ہر ایک ملک کے اپنے اپنے مفادات ہوتے ہیں۔
پاکستان کو شروع سے امریکہ نے اپنے مفادات کے لئے استعمال کیا ہے ۔ پہلے روس سے جنگ میں پاکستان کا استعمال کیا پھر افغانستان پر حملے میں بھی پاکستان کا استعمال کیا۔ اور اب بھی پاکستان کا استعمال کر رہا ہے ۔
جب عمران خان کی حکومت آئی تو اس نے حالات کا جائزہ لیا اور کچھ عرصے میں اُسے اندازہ ہوگیا کہ امریکہ پاکستان کو اپنے مفادات کے لئے استعمال کر رہا ہے ۔ اب فیصلہ یہ کرنا تھا کہ ان حالات میں پاکستان کی حکومت کو کیا کرنا چاہئے۔ عمران خان نے امریکہ کے مفادات کے لئے پاکستان کو استعمال کرنے سے انکار کر دیا ۔
جب عمران خان نے یہ فیصلہ کیا تو امریکہ دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور تھا ۔ امریکہ نے عمران خان کی حکومت کو گرادیا۔ عمران خان نے تین سال آٹھ ماہ حکومت کی ۔ اگر اپوزیشن عمران خان کی حکومت گراسکتی تو کب کی گرادیتی ۔
اپوزیشن عمران خان کی حکومت کو نہیں گرا سکتے تھے۔ MQM, BAPاور JWPنے عمران خان کی حکومت سے نکل کر اپوزیشن کی حمایت امریکہ کے کہنے پر کی۔ امریکہ نے عمران خان کی حکومت گرائی ۔
عمران خان نے وزیر اعطم ہوتے ہوئے امیریکہ کا بھیجا ہوا سائفر Cipher جلسے میں کیوں لہرایا؟ کیونکہ اسے بھی پتہ تھا کہ امریکہ اب اس کی حکومت گرانے کی کوشش کرے گا۔ اور امریکہ نے عمران خان کی حکومت اپریل 2022ء میں گرابھی دی۔ اب امریکہ عمران خان کو عبرت کا نشان بنانا چاہتا ہے ۔ تاکہ کسی اور ملک کا لیڈر یہ ہمت نہ کر سکے کہ امریکہ کے مفادات کے خلاف کھڑا ہو۔
9 مئی کو عمران خان کو گرفتار کیا گیا۔ اور اس کے بعد ہنگامے شروع ہوگئے۔ امریکہ ، آرمی اور اسٹیبلشمنٹ نے اپنے ہی لوگ بھیج کر فوجی تنصیبات پر ہنگامے کروائے ۔ تاکہ عمران خان کو ان ہنگاموں کی وجہ سے فوجی عدالت میں بھیجا جاسکے۔ کیونکہ امریکہ ، آرمی اور اسٹیبلشمنٹ کو پتہ ہے کہ پاکستان کا قانون کمزور ہے اور سرکاری عدالت میں سزا ہونا بہت مشکل ہے ۔ 9 مئی کو پاکستان میں سرکاری طور پر Black Day بولا جاتا ہے ۔ 9 مئی کو کوئی بھی پاکستانی Black Dayنہیں مناتا۔ آرمی اور اسٹیبلشمنٹ والے خود Black Day کا پینا فلیکس جگہ جگہ لگاتے ہیں جس پر لگانے والے کا نام نہیں لکھا ہوتا۔
2024ء کے الیکشن میں PTIکو سیاسی جماعت کی حیثیت سے الیکشن لڑنے سے روک دیا گیا۔ ان سے بلے کا نشان چھین لیا گیا۔ ان کو کمپین کرنے سے روکا گیا۔ پی ٹی آئی کے ورکرز کو گرفتار کیا گیا تاکہ وہ کمپین نہ کر سکیں۔ ان کے منتخب امیدواروں کو آزاد امیدواروں کے طور پر کھڑا ہونا پڑا۔ عمران خان جیل میں تھا اس لیے لیڈر شپ کا فقدان تھا۔ پھر بھی جیسے تیسے کر کے الیکشن ہوگئے اور اس میں PTIنے 180 سے زائد سیٹیں جیت لیں۔ لیکن آرمی اور اسٹیبلشمنٹ نے فارم 49 جس پر صرف Returning Officerکے دستخط ہوتے ہیں۔ اور صرف امیدواروں کے کل ووٹ درج ہوتے ہیں پر نتیجے تبدیل کر کے PTI کو 93 سیٹوں پر لے آئے ، تاکہ عمران خان کی حکومت نہ بن سکے۔ PMLNجس نے 30-40 سیٹیں جیتی تھیں اس کو 75 پر لے آئے ۔ MQMجس نے ایک بھی سیٹ نہیں جیتی تھی اس کو 17 سیٹیں جتوا دیں۔ پھر ایک مخلوط حکومت بنائی اور شہباز شریف کو وزیر اعظم اور آصف زرداری کو صدر منتخب کیا۔ عمران خان پر 150 سے زائد مقدمات چل رہے ہیں۔ ان سب کے باوجود بھی امریکہ ، آرمی اور اسٹیبلشمنٹ عمران خان کو کچھ نہ کر سکی۔ تو اب امریکہ ، آرمی اور اسٹیبلشمنٹ نے اپنے ہی بندے ، جنرل (ر) فیض حمید کے ساتھ معاہدہ کیا کہ وہ اس کا کورٹ مارشل کریں گے اور اس کے بعد اس کو عمران خان سے منسلک کر کے عمران خان کو فوجی عدالت میں لائیں گے اور فوجی عدالت میں سزا دیں گے۔ جنرل فیض حمید نے یہ معاہدہ مجبوری میں کیا یا اپنے مفاد کے لئے اس کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔
جنرل فیض حمید کی گرفتاری کے بعد مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی نے پریس کانفرنس کی اور کہا کہ فیض حمید کا تعلق عمران خان سے ملتا ہے اور فیض حمید نے 9 مئی کے فساد میں PTI کی مدد کی۔ پھر لفافہ جنرنلسٹس کو اس کام پر لگا دیا کہ وہ عوام کو یہ تاثر دیں کہ فیض حمید کا تعلق عمران خان اور PTI سے ہے ۔
جنرل فیض حمید نے 1987ء سے دسمبر 2022 تک تقریبا ً 35 سال پاکستان آرمی میں سروس کی۔ سروس کے دوران ایک آرمی افسر سیاسی جماعت سے وابستگی نہیں رکھ سکتا۔
ریٹائرمنٹ کے بعد دو 2 سال تک بھی آرمی افسر کسی بھی سیاسی جماعت سے وابستہ نہیں ہوسکتا۔ اس لیے جنرل فیض حمید کو عمران خان اور PTIسے منسلک کرنا صرف بے وقوف یا ایسا شخص ہی کر سکتا ہے جو Desperate ہو کیونکہ Desperation میں آپ کچھ بھی کرتے ہو۔
کچھ چیزیں فرض کفایہ ہوتی ہیں۔ جیسے نماز جنازہ ، مردے کا دفنانہ ، ظلم کے خلاف جہاد وغیرہ۔
اگر Community شہر اور ملک میں سے ایک فرد بھی یہ فرض ادا کر دے تو باقی سب پر گناہ نہیں آتا۔ اور سب کے لئے فرض ادا ہوجاتا ہے ۔ لیکن اگر Communityشہر یا ملک میں ایک فرد بھی یہ فرض ادا نہ کرے تو گناہ پوری Community شہر یا ملک پر آتا ہے ۔ امریکہ ، آرمی اور اسٹیبلشمنٹ جو ظلم عمران خان پر کر رہی ہے اگر پاکستان میں سے ایک بھی آدمی اس ظلم کے خلاف جہاد نہیں کرے گا تو قیامت کے دن تمام لوگ جو پاکستان میں رہتے ہیں ان کو اللہ کے سامنے اس کا جواب دینا پڑے گا۔ لیکن کوئی بھی اس ظلم کے خلاف کھڑا نہیں ہورہا۔ میں بھی اس ظلم کے خلاف کھڑا نہیں ہونا چاہتا کیونکہ میرے بیوی بچے، رشتے دار اور دوست احباب ہیں۔ لیکن اگر کوئی بھی یہ کام نہیں کرے گا تو مجبوراً مجھے ہی یہ کام کرنا پڑے گا۔
اگر سب لوگ جنہوں نے 2024ء کے الیکشن میں عمران خان (PTI) کو ووٹ ڈالا تھا اس ظلم کے خلاف کھڑا ہو تو میرا یقین ہے کہ ظالم ہم سب کے خلاف نہیں جیت سکے گا۔ چاہے ہمارے مقابلے میں امریکہ جیسی سپر پاور ہی کیوں نہ ہو۔
اگر ہم سب لوگ اس ظلم کے خلاف نہیں کھڑے ہوسکتے تو کم از کم اتوار کے دن اپنے گاؤں، قصبہ ، شہر میں کسی بھی سڑک پر نکل کر کھڑے ہوسکتے ہیں ۔ اگر کوئی یہ بھی نہیں کرسکتا تو کم از کم عمران خان کا بیج، یا کاغذ پر عمران خان لکھ کر اپنے کپڑے پر بیج کے طور پر پہن سکتا ہے ۔ تاکہ باقی لوگوں کو پتہ چلے کہ آپ عمران خان کے ساتھ ہو۔ یا ہاتھ پر کالی پٹی باندھیں جب تک عمران خان جیل سے رہا نہیں ہوتا۔ اور اسے انصاف نہیں ملتا۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔
ایا ک نعبد وایاک نستعین
کالم نگار: شہزاد حیدر ولد غلام حیدر
نوٹ: یہ تمام باتیں میری رائے / ایمان ہیں ۔ میرے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے ۔ اب آپ کی مرضی ہے آپ میری رائے / ایمان پر یقین کریں یا نہ کریں۔
Comments
Post a Comment